ایران عالمی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا، صدر پزشکیان
وقت اشاعت 21 فروری 2026آخری اپ ڈیٹ 21 فروری 2026
آپ کو یہ جاننا چاہیے
- ایران میں حکومت مخالف تازہ مظاہرے
- روسی تیل کی ترسیلات بحال ہونے تک یوکرین کے لیے قرض روک دیں گے، ہنگری
- نائیجیریا: مسلح حملے میں کم از کم 38 افراد ہلاک
- انگلش ڈومیسٹک لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنا درست نہیں، ہیری بروک
- سربیا اور سویڈن کی اپنے شہریوں سے ایران چھوڑنے کی اپیل
- عالمی سربراہی اجلاس: محفوظ، قابل اعتماد اور مضبوط مصنوعی ذہانت کا مطالبہ
- احتجاجی مظاہروں میں شریک 30 ایرانیوں کو سزائے موت کا سامنا، ایمنسٹی انٹرنیشنل
- لبنان: اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے آٹھ ارکان ہلاک
- صدر ٹرمپ کا 10 فیصد کا نیا عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان
ایران میں حکومت مخالف تازہ مظاہرے
ایران کے مقامی اور کچھ بیرون ممالک میڈیا اداروں نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی طلبہ نے حالیہ مظاہروں میں مارے جانے والوں کی یاد میں ہونے والی ریلیوں کے دوران حکومت مخالف نعرے لگائے۔
اس دوران ایران کی مذہبی قیادت کے خلاف احتجاج کرنے والے گروہوں کا سامنا حکومت کے حامی گروہوں سے بھی ہوا۔
اے ایف پی کی جانب سے جغرافیائی طور پر تصدیق شدہ ویڈیوز، جو تہران کی معروف انجینئرنگ یونیورسٹی میں ریکارڈ کی گئیں، میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہجوم میں جھگڑے شروع ہو گئے۔
ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا، جبکہ امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات جاری ہیں۔
ایران کے صدر نے سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر ہونے والی تقریر میں کہا، ’’عالمی طاقتیں ہمارے سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے قطار میں کھڑی ہیں، مگر ہم ان تمام مسائل کے باوجود، جو وہ ہمارے لیے پیدا کر رہے ہیں، سر نہیں جھکائیں گے۔‘‘
روسی تیل کی ترسیلات بحال ہونے تک یوکرین کے لیے قرض روک دیں گے، ہنگری
ہنگری کے وزیر خارجہ کے مطابق ان کا ملک یورپی یونین کی طرف سے یوکرین کو دیا جانے والا 90 ارب یورو کا قرض اس وقت تک روکے رکھے گا، جب تک دورزبا پائپ لائن کے ذریعے روسی تیل کی ترسیلات دوبارہ شروع نہیں ہو جاتیں۔
27 جنوری سے ہنگری اور سلوواکیہ کو روسی تیل کی ترسیلات معطل ہیں۔ یوکرینی حکام نے کہا تھا کہ روسی ڈرون حملے میں دروزبا پائپ لائن کو نقصان پہنچا، جو روسی خام تیل کو یوکرین کر راستے وسطی یورپ تک پہنچاتی ہے۔
ہنگری اور سلوواکیہ، جنہیں یورپی یونین کی روسی تیل کی درآمدات پر پابندی سے عارضی استثنیٰ حاصل ہے، نے یوکرین پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بغیر کسی ثبوت کے اور جان بوجھ کر سپلائی روک رہا ہے۔
جمعے کی شام وزیر خارجہ پیٹر سجیارٹو نے یوکرین پر الزام لگایا کہ وہ تیل کی ترسیلات دوبارہ شروع نہ کر کے ہنگری کو ’’بلیک میل‘‘ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا،’’ہم اس بلیک میلنگ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ہم یوکرین کی جنگ کی حمایت نہیں کرتے، نہ ہی اس کے لیے ادائیگی کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’جب تک یوکرین ہنگری کو تیل کی سپلائی دوبارہ شروع کرنے میں رکاوٹ ڈالے گا، ہنگری یورپی یونین کے ان فیصلوں کو روکے گا، جو یوکرین کے لیے اہم اور مفید ہیں۔‘‘
ہنگری کا یوکرین کے لیے کلیدی فنڈنگ روکنے کا فیصلہ اس اقدام کے دو دن بعد سامنے آیا ہے، جب اس نے اپنے پڑوسی ملک یوکرین کو ڈیزل کی ترسیلات بھی معطل کر دی تھیں۔ یورپ کے تقریباً تمام ممالک نے روسی توانائی کی درآمدات کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے یا مکمل طور پر روک دیا ہے۔ تاہم ہنگری، جو یورپی یونین اور نیٹو کا رکن ہے، نے روسی تیل اور گیس کی سپلائی کو برقرار رکھا ہے اور اسے بڑھایا بھی ہے۔
نائیجیریا: مسلح حملے میں کم از کم 38 افراد ہلاک
مقامی پولیس کے مطابق نائیجیریا کے شمال مغربی صوبے زامفارا کے ایک گاؤں پر مسلح افراد کے حملے میں کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے۔ زامفارا سمیت شمالی نائیجیریا کے کئی صوبوں میں عدم تحفظ کا شدید مسئلہ ہے۔ وہاں ڈاکوؤں کے مسلح گروہ گاؤں لوٹتے اور رہائشیوں کو اغوا کرتے ہیں۔
یہ تازہ ترین واقعہ جمعے کی رات دور دراز کے اس گاؤں میں پیش آیا، جس تک ’’رسائی کے چند ہی راستے‘‘ ہیں۔ زامفارا پولیس کے ترجمان یزید ابوبکر نے بتایا کہ ’’اب علاقے میں امن بحال ہو چکا ہے۔‘‘
مقامی قانون ساز ہمیسو فارو نے حملے میں 50 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح افراد جنگل سے آئے۔ انہوں نے ڈٹسے دان عاجیہ کا گھیراؤ کیا اور اندھادھند فائرنگ شروع کر دی، جس میں بھاگنے کی کوشش کرنے والے ہر رہائشی کو ہلاک کر دیا گیا۔
یہ مسلح گروہ زامفارا، کٹسینا، کڈونا، سوکوتو، کیبی اور نائجر ریاستوں کے درمیان پھیلے جنگلوں میں مقیم ہیں اور وہیں سے دیہات پر حملے کرتے ہیں۔ نائیجیریا کی فوج کئی سالوں سے اس خطے میں اپنی تعیناتی بڑھا رہی ہے تاکہ ان گروہوں کا مقابلہ کر سکے، مگر تشدد جاری ہے۔
نائیجیریا میں جہادی گروہوں اور بینڈٹس کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے حالیہ مہینوں میں امریکہ کی توجہ حاصل کی ہے۔
انگلش ڈومیسٹک لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنا درست نہیں، ہیری بروک
انگلش ٹی ٹوئنٹی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان ہیری بروک نے ہفتے کے روز کہا کہ اگر بھارتی ملکیت والی فرنچائزز پاکستانی کھلاڑیوں کو انگلینڈ کی وائٹ بال ہنڈرڈ لیگ سے باہر رکھتی ہیں تو یہ ’’افسوسناک‘‘ ہو گا۔
سابق انگلش ٹیسٹ کپتان مائیکل وان نے بھی کہا ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ECB) کو ایسی رپورٹوں پر ’’فوری کارروائی‘‘ کرنا چاہیے کہ ڈومیسٹک لیگ ’’دی ہنڈرڈ‘‘ میں بھارتی ملکیت والی ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کے باعث انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہیں کیا جاتا ہے۔ متعدد آئی پی ایل فرنچائز مالکان اب مختلف ممالک میں بھی ٹیمیں خرید چکے ہیں، اس لیے پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے عالمی لیگوں میں مواقع مزید محدود ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برطانوی نشریاتی ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ اگلے ماہ انگلینڈ کی ’’دی ہنڈرڈ لیگ‘‘ کے پلیئرز آکشن میں بھی یہی صورتحال اثر انداز ہو سکتی ہے۔
دی ہنڈرڈ میں 18 روایتی کاؤنٹیز کے بجائے آٹھ فرنچائز ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ اس لیگ کے سلسلے میں کھلاڑیوں کی نیلامی گیارہ اور بارہ مارچ کو لندن میں ہو گی۔
ایک رپورٹ کے مطابق چار ٹیمیں دانستہ طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کو منتخب نہیں کریں گی۔ ان میں مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز شامل ہیں اور ان تمام ٹیموں کے مالکان یا بڑے شیئر ہولڈرز بھارتی ہیں۔
پچاس سے زائد پاکستانی کرکٹرز نے اس لیگ میں حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی دستیابی درج کرائی ہے۔
انگلش کرکٹ بورڈ ایسی خبروں کی تصدیق نہیں کر سکا ہے لیکن انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرے۔
تقریباً 18 ممالک کے 1,000 کے قریب کھلاڑی نیلامی کے لیے رجسٹرڈ ہیں، جن میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی بھی شامل ہیں۔
سربیا اور سویڈن کی اپنے شہریوں سے ایران چھوڑنے کی اپیل
سربیا اور سویڈن نے اپنے شہریوں سے ایران چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔ ان دونوں ملکوں نے یہ اپیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی کے بعد جاری کی ہے۔
سربیا کی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا،’’سکیورٹی کی خراب ہوتی صورتحال کی وجہ سے جمہوریہ سربیا کے شہریوں کو آنے والے عرصے میں ایران کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔‘‘
بیان میں مزید کہا گیا، ’’جو بھی ایران میں موجود ہیں، انہیں جلد از جلد ملک چھوڑنے کی سفارش کی جاتی ہے۔‘‘
اس کے علاوہ سویڈن کی وزیر خارجہ ماریا مالمر سٹینرگارڈ نے ایکس پر لکھا کہ انہوں نے ’’ایران میں موجود سویڈش شہریوں سے ایران چھوڑنے کی اپیل‘‘ کی ہے۔
ایران نے جمعے کو کہا تھا کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام پر امریکہ کے ساتھ جلد معاہدے کی امید رکھتا ہے، جو دونوں دشمن ممالک کے درمیان طویل عرصے سے تنازعے کا باعث رہا ہے۔
تاہم ٹرمپ نے تہران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے جمعے کو کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ ’’محدود فوجی حملے پر غور‘‘ کر رہے ہیں۔
عالمی سربراہی اجلاس: محفوظ، قابل اعتماد اور مضبوط مصنوعی ذہانت کا مطالبہ
امریکہ اور چین سمیت کئی درجن ممالک نے ہفتے کو نئی دہلی میں ایک بڑے سربراہی اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک اعلامیے میں ’’محفوظ، قابل اعتماد اور مضبوط‘‘ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
چھیاسی ممالک اور دو بین الاقوامی تنظیموں کے دستخط شدہ اس اعلامیے میں کہا گیا ہے، ’’محفوظ، قابل اعتماد اور مضبوط مصنوعی ذہانت کو فروغ دینا اعتماد کی تعمیر اور معاشرتی و معاشی فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی بنیاد ہے۔‘‘
اعلامیے میں کوئی ٹھوس عہد نامے شامل نہیں تھے بلکہ متعدد رضاکارانہ اقدامات کی نشاندہی کی گئی، جن میں بین الاقوامی سطح پر مصنوعی ذہانت کی تحقیقی صلاحیتوں کو مشترکہ طور پر استعمال کرنے کا بھی ذکر ہے۔
پانچ روزہ اس ایونٹ کے حتمی اعلامیے میں کہا گیا، ’’ہمارا یقین ہے کہ مصنوعی ذہانت کے وعدوں کا بہترین استعمال تب ہی ممکن ہے، جب اس کے فوائد انسانیت میں برابر بانٹے جائیں۔‘‘
بھارت میں ہونے والی ’’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘‘ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں ٹاپ ٹیک کمپنیوں کے سی ای اوز بھی شامل تھے۔ یہ جنریٹیو مصنوعی ذہانت سے نمٹنے کے لیے سالانہ عالمی اجلاس کا چوتھا سلسلہ تھا اور پہلی بار کسی ترقی پذیر ملک نے اس کی میزبانی کی۔
دنیا میں سب سے بڑی مصنوعی ذہانت کی طاقت امریکہ نے گزشتہ سال فرانس میں ہونے والے اجلاس کے اعلامیے پر دستخط نہیں کیے تھے۔
دہلی کے اجلاس میں اہم موضوعات میں مصنوعی ذہانت کی کثیر لسانی ترجمے کی صلاحیتوں کے معاشرتی فوائد، ملازمتوں میں خلل کا خطرہ اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کی بھاری کھپت شامل تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اجلاس کا وسیع دائرہ کار اور فرانس، جنوبی کوریا اور برطانیہ میں ہونے والے گزشتہ اجلاسوں میں کیے گئے مبہم وعدوں کی وجہ سے کسی ٹھوس نتیجے کا امکان کم تھا۔
احتجاجی مظاہروں میں شریک 30 ایرانیوں کو سزائے موت کا سامنا، ایمنسٹی انٹرنیشنل
انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں بڑے پیمانے پر ہوئے حالیہ احتجاجی مظاہروں سے منسلک کم از کم 30 افراد کو سزائے موت کا سامنا ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق آٹھ مقدمات میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے، جبکہ باقی 22 مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے دو ملزمان ابھی نابالغ ہیں۔
ایران: لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں، وزیر خارجہ
تاہم ایرانی عدلیہ نے ان میں سے کسی بھی سزائے موت کی سرکاری تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم ایک ہفتہ قبل نیوز ایجنسی میسان نے کہا تھا کہ تین افراد کو ’’فسادات میں شرکت‘‘ کے الزام میں سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ایمنسٹی نے ایرانی قیادت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اختلاف رائے کو دبانے کے لیے ’’سزائے موت کو بطور ہتھیار‘‘ استعمال کر رہی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مشرق وسطیٰ کی نائب علاقائی ڈائریکٹر ڈیانا الطحاوی نے کہا، ’’گرفتاری کے چند ہفتوں بعد ہی تیز رفتار مقدمات میں سزائے موت سنائی جا رہی ہے اور فوری پھانسی کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔‘‘
ایرانی عدلیہ نے جنوری کے وسط میں اعلان کیا تھا کہ الزامات درج کر لیے گئے ہیں اور "فسادات" کے انتہائی سنگین مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر الگ سے نمٹایا جا رہا ہے۔
عدلیہ کے سربراہ نے احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے سکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کے لیے "انتقام" کا مطالبہ کیا تھا۔
جنوری کے آغاز میں ایران کے سکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو سختی سے کچل دیا تھا۔
لبنان: اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے آٹھ ارکان ہلاک
جمعے کو مشرقی لبنان میں اسرائیل کی طرف سے کیے گئے حملوں میں حزب اللہ کے آٹھ ارکان ہلاک ہوئے۔ یہ بات اس عسکری گروپ کے ایک عہدیدار نے ہفتے کے روز نیو ایجنسی اے ایف پی کو بتائی ہے۔
لبنان کی وزارت صحت نے جمعے کو کہا تھا کہ مشرقی بکا علاقے میں ہونے والے حملوں میں کل 10 افراد ہلاک ہوئے۔
دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے ہفتے کو ایک بیان میں ان مہلک اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی، جو عسکری گروپ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود تازہ ترین واقعہ ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حملوں کو ’’امریکہ اور دیگر ممالک کی طرف سے استحکام قائم کرنے کی سفارتی کوششوں کو ناکام بنانے کی کھلی جارحیت‘‘ قرار دیا۔
حزب اللہ کے ایک قانون ساز نے بیروت سے مطالبہ کیا کہ جنگ بندی کی نگرانی کے لیے قائم کثیر الجہتی کمیٹی کے اجلاس معطل کر دیے جائیں۔ واشنگٹن حکومت نومبر 2024 میں نافذ کی گئی جنگ بندی کی نگرانی کرنے والی پانچ رکنی کمیٹی کا ایک رکن ہے اور اس کمیٹی کا اگلا اجلاس اگلے ہفتے طے ہے۔
وزارت صحت کے مطابق جمعہ کو جنوبی اور مشرقی لبنان پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں کل 12 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سے 10 ہلاکتیں مشرقی علاقے میں ہوئیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے بعلبک علاقے میں حزب اللہ کے میزائل نیٹ ورک کے ’’کئی دہشت گردوں‘‘ کو تین مختلف کمانڈ سینٹرز میں نشانہ بنایا۔
حزب اللہ نے کہا ہے کہ ان حملوں میں ایک کمانڈر بھی ہلاک ہوا ہے۔ قانون ساز رامی ابو حمدان نے ہفتے کو کہا کہ حزب اللہ ’’اس بات کو قبول نہیں کرے گی کہ حکام محض سیاسی تجزیہ کاروں کا کردار ادا کریں اور ان حملوں کو نظر انداز کر دیں، جیسا کہ کمیٹی کے ہر اجلاس سے پہلے اسرائیلی حملے معمول بن چکے ہیں۔‘‘
حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد کمزور ہونے کے باوجود لبنان میں ایک مضبوط سیاسی قوت ہے اور پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتی ہے۔
صدر ٹرمپ کا 10 فیصد کا نیا عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان
امریکی سپریم کورٹ نے جمعے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر عائد عالمی ٹیرفس کو مسترد کرنے کا اعلان کیا، جس سے ٹرمپ کے معاشی ایجنڈے کو شدید دھچکا لگا ہے۔
اس فیصلے پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک متبادل کے طور پر عالمی سطح پر 10 فیصد ٹیرف عائد کریں گے، جبکہ اپنی تجارتی پالیسیوں کو دوسرے ذرائع سے آگے بڑھائیں گے۔ یہ نئے ٹیرف ایک ایسے قانون کے تحت نافذ کیے جائیں گے، جو انہیں صرف 150 دنوں تک محدود رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے یہ اعلان سپریم کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کیا، جس نے ان کے وسیع ٹیرف ڈھانچے کو ایمرجنسی پاور کا غیر قانونی استعمال قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ انہوں نے فیصلے میں شامل ججوں کو ’’قابل شرم‘‘ قرار دیا اور فیصلے کو ’’انتہائی مایوس کن‘‘ کہا۔
ان کا کہنا تھا، ’’یہ فیصلہ غلط ہے۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہمارے پاس بہت طاقتور متبادل موجود ہیں۔‘‘
ہائبرڈ گاڑیوں کے بعد اب ہائبرڈ گندم بھی مارکیٹ میں آنے کو
دوسری جانب امریکی کسانوں نے صدر ٹرمپ سے کوئی مختلف راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ امریکن فارم بیورو فیڈریشن کے صدر زپی ڈووال نے کہا کہ کسان ٹرمپ کی کوششوں کو سمجھتے ہیں کہ ٹیرفس کے ذریعے ’’امریکی اشیا، امریکی مزدوروں اور امریکی معیشت کے لیے زیادہ منصفانہ میدان ہموار کیا جائے‘‘ لیکن انہوں نے انتظامیہ سے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے کی درخواست کی۔
انہوں نے بیان میں کہا، ’’بدقسمتی سے پہلے ہی تجارتی خلل اور زرعی اشیا کی قیمتوں میں کمی نے کسانوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔‘‘
امریکی ایشین بزنس کونسل کے سربراہ برائن میک فیٹرز نے جمعے کو کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے ’’غیر یقینی اور الجھن‘‘ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دریں اثنا ٹینیسی سویابین ایسوسی ایشن، جو قومی ایسوسی ایشن کی ریاستی شاخ ہے، نے ٹرمپ سے زرعی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرنے کے دیگر اختیارات استعمال نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس ایسوسی ایشن کے مطابق سویابین کاشتکاروں کے لیے حفاظتی کیمیکلز، فارم آلات، بیج اور ایندھن جیسی زرعی اشیاء انتہائی اہم ہیں اور ان کی قیمتوں میں اضافے سے کسان مزید پریشانیوں کا شکار ہو جائیں گے۔
ادارت: عاطف بلوچ